اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زندگی کا حساب

تصویر
 ‎ ‎دور کے لوگوں سے ملتے وقت ہمیں رسمی آداب (Formalities) نبھانے پڑتے ہیں، جبکہ اپنے لوگوں کے ساتھ ایسی کسی رسمیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی اصول عبادات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ ‎جیسے جیسے انسان اپنے رب کے قریب ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے اس کا تعلق زیادہ سادہ، خالص اور بے تکلف ہو جاتا ہے۔ اس لیے مذہبی معاملات میں ہمیں دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو دیکھنا چاہیے۔ ‎ہر انسان کا سفر اور اس کا فاصلہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی اور سے اپنا موازنہ کرنے کی بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں مزید کتنا قریب ہونا ہے۔ ‎عقیدہ کبھی بھی اجتماعی نہیں ہو سکتا۔ یہ بلکل ہی ایک انفرادی چیز کیونکہ اس میں جس چیز کی جواب دہی کا تصور ہے وہ انفرادی ہے۔ اپنے قریبی رشتے دار کی عمل کا جواب دہ آپ نہیں ہے تو آپ بھی کسی کے عمل کا جواب دہ نہیں پھر ہم کیسے عقیدے کو اجتماعی کیہ سکتے ہیں۔ جہاں تک اجتماعی عقیدے کی بات ہوتی ہے اس میں عام آدمی کا کوئی فایدہ نہیں۔ اس میں یا تو حکمران طبقے کا فایدہ ہے یا پھر مذہبی لیڈر شپ کا۔ اس اجتماعیت میں عام آدمی استعمال ہوتا ہے جس اس کا فائدے کی بجائے نقصان پہنچتا ہے۔  ‎عقیدہ انس...